ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیر اعظم کے جواب تک پارلیمان کی کارروائی نہیں چلے گی : کانگریس

وزیر اعظم کے جواب تک پارلیمان کی کارروائی نہیں چلے گی : کانگریس

Wed, 30 Nov 2016 11:55:41    S.O. News Service

نوٹ بندی کا مقصد متعین کرنے میں مودی اب تک ناکام، ڈاکٹر نصیر حسین کا الزام
بنگلورو۔29نومبر (ایس او نیوز) کانگریس پارٹی نے دوبارہ اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ جب تک وزیر اعظم نوٹ بندی سے متعلق پارلیمان میں جواب نہیں دیتے اور اپوزیشن سے معذرت خواہی نہیں کرتے، تب تک پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دی جائیگی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر سید نصیر حسین نے آج کے پی سی سی دفتر میں اردو اخبارات کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نوٹ بندی وزیر اعظم نریندر ا مودی کا تغلقی فرمان ہے، جس سے عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین ہفتوں کا عرصہ گزرنے کے باوجود مودی نوٹ بندی کا مقصد متعین کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مرتبہ کالا دھن کے خلاف کارروائی کہتے ہیں، پھر دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے معاشی امداد روکنے کا اعلان کرتے ہیں تو کبھی جعلی نوٹوں کا پتہ لگانے کا بہانے بناتے ہیں۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خود مودی نے پارلیمان میں بتایا تھا کہ ملک میں 400 کروڑ روپوں کی جعلی کرنسی ہے، اور اس جعلی کرنسی کے خاتمہ کیلئے نوٹ بندی کے ذریعہ 25 تا 30 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنا کونسی دانش مندی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کالا دھن صرف نوٹوں کی شکل میں ہوتا ہے؟۔ کیا مودی نے انتخابات سے قبل نوٹ بندی کا وعدہ کیا تھا؟۔ انہوں نے تو کالا دھن واپس لاکر ہر ایک کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب اپنی محنت کی کمائی ہوئی رقم بینکوں سے نکالنے می ں بھی حد مقرر کردی گئی ہے، دنیا کا ایسا کوئی ملک نہیں ہوگا، جہاں پر اپنی ایمانداری کی کمائی کو لینے کیلئے حکومت کا محتاج ہونا پڑا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے مرکز میں مودی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے جی ڈی پی شرح 8 فیصد سے زیادہ نہیں ہوپائی ہے، اسی طرح یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی تو اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے نوٹ بندی کا سہارا لیاگیا اور عوام کی توجہ اس طرف مبذول کردی گئی۔ ڈاکٹر نصیر حسین نے الزام عائد کیا کہ نوٹ بندی سے قبل ہی بی جے پی قائدین کو اس کا علم تھا، جس کے سبب مغربی بنگال میں بی جے پی کے کھاتے میں پیسے جمع ہوئے، بہار میں جائیدادیں خریدی گئیں اور پہلی مرتبہ ستمبر اور اکتوبر کے دوران بینکوں میں چھ لاکھ کروڑ روپئے ڈپازٹ کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کیش لیس معیشت کی باتیں اتنی آسان نہیں ہیں، کیونکہ دنیا کا سوپر پاور قرار دئے جانے والے امریکہ میں بھی یہ ممکن نہیں ہوپایا ہے۔ کیا زرعی مزدوروں کو ان کی مزدوری چیک میں فراہم ہوسکتی ہے؟۔ انہوں نے نوٹ بندی سے متعلق بتایا کہ یہ فرد واحد کا فیصلہ ہے، جو خود اپنی پیٹھ تھپ تھپا کر تعریف کررہا ہے، اور جمہوری ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک وزیر اعظم پارلیمان سے دور بھاگ رہا ہے، جب پارلیمان کی کارروائی چل رہی ہے تو وہاں پہنچ کر اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم اپنی پارٹی کی ریالیوں کے ذریعہ پارلیمان کا سامنا کرنے کی کوشش کررہا ہے، جو غیر جمہوری عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام آدمی اتنا پریشان ہے، مزدور ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، اب تک تقریباً 80 لوگوں کو موت ہوگئی ہے، اور اکثر کے پاس ان کی آخری رسومات ادا کرنے کیلئے بھی پیسہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اب جو 8 لاکھ کروڑ روپئے بینکوں میں جمع ہوئے ہیں وہ عام لوگوں کی محنت کی کمائی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 500 اور ہزار روپوں کے نوٹوں پر پابندی کے بعد دو ہزار روپوں کی نوٹ متعارف کرانے کا مقصد کیا ہے؟۔ اپوزیشن پر مودی کے الزامات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب سے مودی حکومت قائم ہوئی ہے۔ یہ رواج عام ہوگیا ہے کہ ان کے خلاف بات کرنے والا غدار ہے، مودی نے تو اپوزیشن پر کالے دھن کی حمایت کا الزام عائد کردیا ہے، جو اپوزیشن کی توہین ہے، ایسے میں کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مودی اپوزیشن سے معذرت خواہی کریں، خود پارلیمان میں جواب دیں اور نوٹ بندی کے بعد فوت ہونے والوں کے ورثہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ اسی طرح ملک کی 60 فیصد آبادی سوسائٹیوں کے ذریعہ قلیل و وسط مدتی قرضہ جات جاری کئے جائیں۔بینکوں سے رقم نکالنے کی حد میں اضافہ کیا جائے، اور اے ٹی یم مراکز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ڈاکٹر نصیر حسین نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب بینکوں میں جتنا پیسہ جمع ہوا ہے، اتنی مقدار میں نوٹ چھاپنے کیلئے تقریباً ایک سال کا وقت درکار ہے۔ مودی کے ذریعہ پیش کی جانے والی کلین امیج پر انہوں نے بتایا کہ جب مدھیہ پردیش میں ویاپم گھپلہ کے موقع پر 80 لوگوں کا قتل ہوا تو اس میں وہاں کے وزیر اعلیٰ ملوث تھے۔ چھتیس گڈھ میں پی ڈی یس گھپلہ، گجرات کے گھپلے، وجئے ملیا کا فرار، للیت مودی کو راجستھان کے وزیر اعلیٰ کا تعاؤن وغیرہ کے وقت وہ کہاں تھے، ان معاملات کی تحقیقات کیوں نہیں ہوسکیں؟۔ سائیکل میں چورن فروخت کرنے والا بابارام دیو اچانک اتنا امیر کیسے بن گیا۔ وجئے مالیا سمیت بڑے بڑے صنعت کاروں کا 7800 کروڑ کا قرضہ کیوں معاف کیاگیا، یہ کیا عام آدمی کا پیسہ نہیں ہے۔ 2014ء کے دوران انتخابات کے موقع پر بی جے پی کے ذریعہ میڈیا پر دس ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے یہ کونسا پیسہ ہے؟۔

مساوی حقوق کمیشن:جسٹس سچر سفارشات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نصیر حسین نے بتایا کہ یو پی اے حکومت نے جسٹس سچر سفارشات کو من و عن قبول کیا ہے، اور مرحلہ وار و شعبہ وار طور پر اس کے نفاذ کا اعلان بھی کیا تھا، جہاں جہاں کانگریس حکومتیں ہیں، وہاں سے اسے نافذ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ حال ہی میں شہر میں ایک پروگرام کے دوران جسٹس راجیندرا سچر کے ذریعہ دئے گئے مشورہ سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ریاست میں مساوی حقوق کمیشن کے قیام سے متعلق وزیر اعلیٰ سدارامیا سے بات چیت کرتے ہوئے اقدامات کئے جائیں گے۔
 


Share: